12 جولائی 2013 - 19:30
عراق ميں دہشتگردي، خانہ جنگي کا خطرہ

عراق ميں دہشتگردانہ حملوں ميں شدت آنے کے بعد اقوام متحدہ نے خانہ جنگي کے خطرے کي جانب سے خبردار کيا ہے -

ابنا: انساني حقوق کے امور ميں عراق کے لئے اقوام متحدہ کے خصوصي ايلچي فرانسسکو ميوٹا نے عراق ميں دہشتگردي کے حاليہ واقعات کو انتہائي خطرناک قرار ديتے ہوئے کہا ہے کہ عراق ميں خانہ جنگي کا خطرہ پيدا ہوگيا ہے - انہوں نے کہا ہے کہ عراق ميں سياسي اختلافات کي شدت، قومي وفاق کا فقدان ، علاقے کے حالات خاص طور پر شام کے بحران کے اثرات اور بعض بيروني اقدامات حالات کو روز بروز بد سے بدتر کررہے ہيں –انہوں نے يہ بيان ايسي حالت ميں ديا ہے کہ عراق ميں دہشتگردانہ کارروائيوں ميں کافي شدت آگئ ہے اور رواں مہينے کے آغاز سے اب تک ڈھائي سو سے زائد افراد جاں بحق ہوچکے ہيں اور کوئي دن ايسا نہيں جارہا ہے جب عراق کے دوچار شہروں ميں بموں کے دھماکے نہ ہوتے ہوں –عراق کے موجودہ حالات کے متعدد عوامل ہيں جن ميں سابق بعثي حکومت کي باقيات، القاعدہ جيسي انتہا پسند تنظيموں کي فتنہ انگيزي اور بعض بيروني حکومتوں کي ريشہ دواني کا نام ليا جاسکتا ہے –عراق ميں حال ہي ميں سيکورٹي اداروں کے آپريشن ميں سعودي عرب، متحدہ عرب امارات اور اردن سميت مختلف ملکوں کے دہشتگرد پکڑے گئے ہيں جس سے اس بات کي تائيد ہوتي ہے کہ عراق کے بعض عرب پڑوسي اس کا امن و امان درہم برہم کرنے اور اس ملک ميں خانہ جنگي شروع کرانے کي سازشوں ميں ملوث ہيں –اس کے ساتھ ہي شام کے بحران کے اثرات سے بھي غافل نہيں رہنا چاہئے- عراق کے صوبہ صلاح الدين کے سيکورٹي ذرائع نے بتايا ہے کہ شام ميں سرگرم بعض دہشتگرد گروہوں نے  رمضان المبارک ميں، عراق کے اندر دہشتگردانہ کارروائيوں کا پروگرام بنايا ہے -عراق کے سيکورٹي ذرائع نے بتايا ہے کہ شام سے   بہت سے دہشتگرد عراق روانہ ہوئے ہيں اور  حمرين کي پہاڑيوں ميں موجود ہيں -   صلاح الدين سميت ، عراق کے  شمالي صوبوں  ميں بدامني اور دہشتگردي پھيلانا ان دہشتگردوں کے اہداف ميں شامل ہے- بنابريں کہا جاسکتا ہے کہ عراق ميں دہشتگردي بيروني سازش ہے -

عراق کو اس وقت  سب سے زيادہ قومي وفاق اور اتحاد ويک جہتي کي ضرورت ہے -عراق کے دشمنوں نے اس ملک کے اقتدار اعلي اور ارضي سالميت  کو ختم کرنے کا پروگرام بنا رکھا ہے اور اس مقصد کي تکميل کے لئے، ان کا سب سے اہم اسلحہ تفرقہ اور قومي و قبائلي اختلافات کو ہوا دينا ہے -   عراق کے بزرگ علمائے کرام نے دشمنوں کي اس سازش کو سمجھتے ہوئے عراق کے حکام،  سياسي جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو بارہا نصيحت کي ہے کہ قومي مفاد کو ذاتي اور جماعتي مفاد پر ترجيح ديں ،  سوجھ بوجھ سے کام ليں اور  اختلاف و تفرقے سے پرہيز کريں -

.......

/169